Wednesday, July 23, 2014

Construction of the Kalabagh dam as soon as possible, the only quick way to national prosperity: Moonis Elahi


لاہور (30 مارچ 2014ء) پاکستان مسلم لیگ کے سینئر مرکزی رہنما مونس الٰہی نے کہا ہے کہ عوامی خوشحالی، ملکی ترقی کا واحد اور فوری راستہ کالا باغ ڈیم کی جلد از جلد تعمیر ہے، بھارت پاکستان میں کالا باغ ڈیم کے خلاف سازشیں کر کے ہمارے ہی دریاؤں پر ناجائز ڈیم تعمیر کرتا جا رہا ہے، پاکستان مسلم لیگ یوتھ ونگ کے نوجوان اپنے اپنے علاقوں میں کالا باغ ڈیم کیلئے اتفاق رائے پیدا کریں، آج نوجوانوں میں بیروزگاری اور مایوسی پھیل رہی ہے، ہمارے دور میں ان کیلئے بہترین فیصلے کیے جاتے تھے، اگر موجودہ حکمران ہمارے دور کی ترقی کا راستہ نہ روکتے تو آج پاکستان قرض لینے والا نہیں دینے والا ملک ہوتا۔ وہ یہاں مسلم لیگ ہاؤس میں عظیم الشان اور پرجوش یوتھ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں پورے صوبہ سے مسلم لیگی نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اور زبردست نعروں سے پاکستان مسلم لیگ کی پالیسیوں اور مونس الٰہی کے خیالات سے مکمل اتفاق اور ہم آہنگی کا اظہار کیا۔ مونس الٰہی نے کہا کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور پاکستان کا اتنا بڑا سرمایہ حکمرانوں کی نالائقیوں کی وجہ سے اس طرح ضائع ہو رہا ہے جیسے 40 ملین ایکڑ فٹ پانی بغیر استعمال کے سمندر میں گر رہا ہے جسے استعمال کر کے 50 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس کی فی یونٹ قیمت صرف 5ء2 روپے ہو گی اور سالانہ 10 ارب ڈالر کی بچت کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو نوجوانوں کے مستقبل اور عوام کو سستی بجلی دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، بجلی کے بل تو ہر ماہ بڑھا دیتے ہیں لیکن پانی سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ مونس الٰہی نے کہا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور سود پر قرضہ دینا اصل ریلیف نہیں بلکہ اصل ریلیف تو بجلی سستی کرنا ہے جس سے عوام خوشحال ہوں گے۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے مونس الٰہی نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف 3600 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی بلکہ بجلی کی پیداوار کا خرچہ 180 ارب روپے سالانہ کم ہو گا جس سے پنجاب کو بھی 100 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بنک رپورٹ کے مطابق 2010ء کے سیلاب سے پاکستان کو 5ء9 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا اگر ہم ایک سیلاب کے نقصان کی قیمت کے برابر کالا باغ ڈیم بنا لیں تو ملک سے بھوک، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کے پس پردہ بھارت ہے، پاکستان تو ابھی تک ایک کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکا مگر بھارت ہمارے دریاؤں پر کئی ڈیم تعمیر کر چکا ہے اور مزید ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ مونس الٰہی نے موجودہ حکومت کو بھارت نواز حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کو پسندیدہ ترین ملک کا سٹیٹس دینا چاہتے ہیں، کیا انہوں نے یہ کرنے سے پہلے ہندوستان کے ساتھ ہمارے دریاؤں پر جو وہ قبضہ کر رہا ہے اس پر کوئی بات کی ہے؟ کیا بھارت نواز حکومت نے یہ کہا ہے کہ جب تک ہندوستان پاکستان کے پانی پرسے اپنا قبضہ نہیں اٹھائے گا ہم اس سے دوستی نہیں کریں گے؟ سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے بھائیوں سے اپیل کرتے ہوئے مونس الٰہی نے کہا کہ آئیں کالا باغ ڈیم کے مسئلہ پر آپس میں بات کریں اور تمام خدشات کو دور کریں تاکہ ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو سکے اور چاروں صوبے ترقی کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کو 40 لاکھ ایکڑ فٹ، خیبر پختونخواہ کو 22 لاکھ ایکڑ فٹ، پنجاب کو 20 لاکھ ایکڑ فٹ اور بلوچستان کو 15 لاکھ ایکڑ فٹ مزید پانی ملے گاجو بھوک اور غربت مٹانے کا ایک ایسا قدم ہوگا کہ جس کا فائدہ آج اور آنے والی نسلوں کو ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ کے دور میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے مونس الٰہی نے موجودہ حکومت سے سوال کیا کہ نوجوانوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جس مشن کا آغاز کیا تھا وہ کیوں رول بیک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان مسلم لیگ پاکستان مسلم لیگ نے پانچ سال میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نوجوانوں کیلئے 70 لاکھ ملازمتیں فراہم کی تھیں، پنجاب میں میٹرک تک مفت تعلیم اور مفت کتابیں نوجوانوں کو دی گئیں، پورے صوبہ میں یونیورسٹیوں، کالجوں، اور پروفیشنل تعلیم کے اداروں کا جال بچھا دیا گیا، نوجوانون کے بہتر مستقبل کیلئے بہترین فیصلے کیے جا رہے تھے، لاہور کا IT ٹاور جو آج حکمرانوں کے سیکورٹی گارڈز کی رہائش گاہ بنا ہوا ہے اس کا اصل مقصد نوجوانوں کیلئے زیادہ سے زیادہ روزگار پیدا کرنا تھا مگر افسوس نوجوان آج خود کشی کرنے پر مجبور ہیں، ان میں مایوسی پھیلائی جا رہی ہے، قانون کی حکمرانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ نوجوانوں میں روزگاری بے انتہا بڑھ گئی ہے۔ کنونشن سے سردار وقاص حسن مؤکل، ذوالفقار پپن، فراز اعوان، اجمل ضیاء چیمہ، اسد ریاض بلوچ بھی خطاب کرنے والوں میں شامل تھے۔ جبکہ چودھری ظہیر الدین، محمد بشارت راجہ، باؤ رضوان، بلال مصطفی شیرازی، ملک شکیل سکندر، سیمل کامران، ثمینہ خاور حیات اور دیگر رہنما سٹیج پر موجود تھے۔